بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ [---] ایران نے مکتبِ تشیّع کے ذریعے طاقت کو مادے سے معنیٰ (اور مادیت سے روحانیت) میں منتقل کر دیا ہے۔ یہ معنوی نگاہ اپنے ساتھ ایک قسم کی اسٹراٹیجک تخلیقیت لاتی ہے۔
تیسرا حصہ:
آج کی دنیا میں، ٹیکنالوجی، مزید، انسانی فلاح اور خوشحالی کا ذریعہ نہیں، بلکہ "حکمرانی" کا اوزار ہے۔ ایران نے اسٹیم سیلز، نینو، جوہری ٹیکنالوجی اور ایرو اسپیس جیسے شعبوں میں قدم رکھ کر ایک ایسے کلب میں داخل ہو گیا جس میں "طاقت کے مالکوں" کی اجازت کے بغیر قدم رکھنا ممنوع تھا؛ (1) ایران کا دیگر ترقی پذیر ممالک سے بنیادی فرق لفظ "مقامی [Local]" میں مضمر ہے۔ درآمد شدہ ٹیکنالوجی ایک مسئلہ ہے، جو ابتدائی طور پر مشرقی ایشیا، جاپان، شمالی کوریا اور دیگر ممالک میں پیش آیا۔ اس ٹیکنالوجی پر پابندی لگ سکتی ہے، اور اسے کنٹرول کیا جا سکتا ہے؛ لیکن ایرانی سائنسدانوں (جیسے جوہری شہداء) کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے علم پر پابندی نہیں لگ سکتی۔ یہیں پر ایران ایک "کھپت کی منڈی (Consumption Market)" سے ایک "تزویرای حریف (Strategic Rival)" بن جاتا ہے جو اپنا ماڈل دوسروں کو برآمد کر سکتا ہے۔
ایک ابھرتی ہوئی سپر پاور کو گھٹنے ٹیکنے کے لئے نسلی-مذہبی تفریقوں کو ہوا دینا
دستاویزات بتاتی ہیں کہ اندرونی نسلی، مذہبی اور طبقاتی تفریقوں پر سرمایہ کاری، مفلوج کرنے والی بیرونی پابندیوں کی تکمیل ہے۔ مقصد یہ ہے کہ ایران کی "توجہ" "طاقت اور ترقی پیدا کرنے" کی کوششوں سے ہٹ کر "اندرونی بحرانوں کے انتظام" پر مرکوز ہو جائے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ایران اندرونی زخموں میں اس قدر الجھ جائے کہ اسے دنیا میں اپنا تہذیبی کردار ادا کرنے کا موقع نہ ملے، لیکن یہ سازشیں ہمیشہ "ایرانی سطح مرتفع کی ہزاروں سالہ بقائے باہمی" کی سیسہ پلائی ہوئی دیوار سے ٹکرا کر پاش پاش ہوتی رہی ہیں اور ہوتی رہیں گی۔
ایران ایک بنے بنائے جعلی جغرافئے کا نام نہیں، بلکہ ایک وحدت پسند تہذیب ہے جس نے قدیم زمانے سے لے کر آج تک اپنی آغوش آسمانی مذاہب کے پیروکاروں کے لئے کھلی رکھی ہے۔ اس سطح مرتفع میں، یہودی صدیوں سے مسلمانوں کے ساتھ پرامن زندگی بسر کرتے آ رہے ہیں اور شہروں کی صنفیاتی اور سماجی ساخت کا ایک ناقابلِ تقسیم حصہ ہیں۔
* ارمنی (عیسائی)، یہ معزز ہم وطن، معاشرتی اعتماد میں اس قدر گہری جڑیں رکھتے ہیں کہ آج ہر ایرانی کے لئے "ارمنی" کا نام دیانت اور مہارت کے مترادف ہے۔ اس دعوے کی گواہی اس حقیقت سے ملتی ہے کہ ایرانی عوام مسیحی صنعت کاروں اور ماہرین سے بلا جھجھک رجوع کرتے ہیں، جو مذہب سے ماورا، اعتماد کی علامت کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔
* زرتشتی (پارسی) بھی ایران کی قدیم روایات کے محافظوں کے طور پر، یزد جیسے شہروں میں مکمل امن و احترام کے ساتھ، نہ صرف اپنے طریقے سے عبادت کرتے ہیں، بلکہ اپنے مخصوص رسائل اور نشریات کے ذریعے ملک کی ثقافتی زندگی میں بھی سرگرم کردار ادا کرتے ہیں۔
رواداری کے اس جذبے کی جڑیں ایرانی معاشرے کے اکابرین اور مراجع عظام کے سلوک میں جڑی ہوئی ہیں۔ جہاں امام موسیٰ صدر اور آیت اللہ محی الدین حائری جیسی مصلح شخصیات نے گرجا گھروں میں قدم رکھ کر، تقابل اور مخالفت کے بجائے حضرت مریم (سلام اللہ علیہا) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جیسی مقدس ہستیوں کی تعظیم کی؛ اور ہاں! یہ نگاہ قرآن کے صریح منطق سے ماخوذ ہے جو آسمانی پیغمبروں کو ایک واحد نور کے طور پر دیکھتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ یہ مغربی رویہ آج بھی جاری ہے، وہ آمروں اور بادشاہوں کی حمایت کرتے ہیں جو ان سے اپنی بقاء کے سوا کچھ نہیں مانگتے اور جو ممالک آزادی، خودمختاری اور استقلال کے خواہاں ہیں اور خود اپنی قلمرو میں ترقی کرکے خود اپنے تحفظ اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے خواہاں ہیں، وہ انہیں اس کی اجازت نہیں دیتے، چنانچہ ایران نے جو راستہ اختیار کیا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس ملک کو اپنی ترقی کے لئے کسی سے اجازت مانگنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایرانی جان گئے ہیں کہ جو لوگ مغرب سے ترقی اور آزادی کی اجازت مانگتے ہیں وہ انہیں اجازت نہیں دیتا بلکہ ان کے خلاف سازشیں کرتا اور یلغار کا نشانہ بناتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ